Tuesday, March 30, 2010

سات خون معاف“ نامی فلم کی عکس بندی سرینگر میں جاری

سرینگر//سرینگر میںویشال بھاردواج کی فلم”سات خون معاف“ کی شوٹنگ کے لئے انتظامیہ نے دو دائروں پر مشتمل حفاطتی بندو بست کیا ہے جبکہ فلم میں مرکزی کردار ادا کرنی والی پریانکا چوپڑا عرفان خان کے ہمراہ جوں ہی نہرو پارک علاقے میں نمودار ہوئی تو سینکڑوں مداحوں نے اُنہیںگھیرنے کی کوشش کی تاہم فورسز اہلکاروں نے اُنہیں ایسا کرنے نہیں دیا۔ تفصیلات کے مطابق کل صبح معروف بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نہرو پارک پہنچ گئیں۔ اس موقعہ پر اُن کے ہمراہ عرفان خان بھی تھے اور جب لوگوں کی نظر بالی ووڈ کے معروف اداکاروں پر پڑی تو اُنہوں نے اُن کے ساتھ بات چیت کرنے کی غرض سے اُنہیں گھیرنے کی کوشش کی۔ اس موقعہ پر تعینات فورسز اہلکاروں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ اداکاروں کے نزدیک نہ جائیں اور اپنے موبائیل فونوں کے ذریعے فوٹو گرافی بھی نہ کریں جس سے یہاں موجود لوگوں کو مایوسی ہوئی۔ بالی ووڈ ڈائریکٹر ویشال بھاردواج گذشتہ ایک ہفتے سے پریانکا چوپڑا اور عرفان خان کے ہمراہ سرینگر میں مقیم ہیں اور وہ یہاں” سات خون معاف“ نامی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ دریں اثناءانتظامیہ نے شوٹنگ کو کسی خلل کے بغیر جاری رکھنے کے لئے حفاظت کے اعلیٰ ترین انتظامات کر رکھے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے بالی ووڈ اداکاروں کی حفاظت کے لئے دودائروں پر مشتمل حفاظت کا بند وبست کیا ہے۔

Saturday, March 27, 2010

Jigar Maas - The fisherwoman

Times have changed, but not her necessity to work. For seven decades she has been a part of Amira Kadal, struggling to make an earning and a decent place to work.

It’s a spring morning. A group of around a dozen fisherwomen have lined up on the Amira Kadal bridge–calling out customers in their shrill voices. Some of them are waiting, some selling and others busy bargaining price. Donning a Pheran, and some traditional jewellery –she is one of them. This bridge on Jhelum is a part of her life and she, of its history. Among the group, she clearly looks the oldest. Her wrinkled face, grey hair and decaying teeth don’t decline to convey that she is 70 something. She is a fisherwoman and her name is Jigri. Age has fetched her a honorific title: Jigar Maas (meaning Jigri Auntie). A mother of six, every morning this old woman, leaves her home at Habak on the City outskirts and travels to the City centre of the summer capital to sell the fish her husband caught at night. Jigar Mass stays on the bridge till sunset trying to exhaust her lot. This has been her routine since she was a child. “I started coming here with my mother around 70 years when I was a kid and have been coming here since,” she recaps.
Jigri and her husband are only bread earners for the family. Of her six children, two of them daughters, only one could get married. But she got divorced and came back. The entire family lives in a shanty hutment on the Dal lake banks. Managing life in poverty has become routine for the family. “We are extremely poor people. I earn mere Rs 100-150 a day. How difficult it must be for me to manage running my entire family on this meagre amount?” she asks while bargaining with a customer.
Though, catching and selling fish is what sustains this family of eight; none of her children have taken up the parental profession. “My children are not interested in this business,” she says. “Some of them are 10th pass but none could get a job.”
Jigri has seen the changing face of Amira Kadal. Even tough the area became a volatile hub in ‘90s when almost everyday there would be cross-firing in the marketplace resulting in causalities, the fisherwoman braves to come and earn there. But then a line of fear crosses her wrinkled face as she sees policemen walking the bridge. The old woman complains of ill treatment by the cops. “Every time something goes wrong in this area, we are unnecessarily beaten up by the police and we have to run leaving our belongings behind.” She questions this behaviour. “My work is what keeps my family alive. Why should we be forced to leave the place of work?” she asks. Gigji has another complaint. “We get no help from the government.” She says the government should look into the plight of some 250 families besides her own, who live at the fishermen colony at Habak. “Our life has never been better... The government should do something for us… Provide us with some fish market so that we have a decent place to work and nobody removes us from there.”
Though illiterate and away from political developments, she recalls names of the chief ministers at her finger tips. And one of them she says had been of some help. Referring to Sheikh Muhammad Abdullah, she said: “Sheikh sahib tried to rehabilitated us but nobody after him remembered us.” She has a complaint with the society as well.
“We are not respected by the society. We’ve done our job ceaselessly through all these years but still, our entire community is looked down upon,” she says.
For the rest she says: “Everything has changed.”
“The crowd on the road has increased and now there is more traffic on the roads. The entire place seems to be in a rush.”
But as she works, the rest of the family is at home. During daytime, her husband takes rest. “My husband is old. He spends his entire day home.”
But by the time Jigri reaches home after day’s toil, its time for the husband to leave for work, to catch fish in the Dal lake till sunrise when he hands over the catch to Jigri and she leaves for work. This has been her life. A routine for 70 years!

وادی میں 35فیصد لوگ سگریٹ اور تمباکونوشی کے عادی

سرینگر// بسکو سکول سرےنگر میں کل عام لوگوں کوسگرےٹ اور تمباکو کے مضر اثرات کے بارے میں اےک جانکاری تقرےب کا انعقاد کےا گےا ۔ تقرےب میں ڈویژنل کمشنرکشمےر نسےمہ لنکر نے مہمان خصوصی کے فرائص انجام دئےے۔ ڈویژنل کمشنر نسےمہ لنکر نے اپنی تقرےر کے بعدذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہو کہا کہ سرکار ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی ہے اور جو بھی لوگ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں، مسافر گاڑیوں اور سکول کے گردو نواح میں سگرےٹ پےتا اورسگریٹ فروخت کرتا نظر آئے گا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اس موقعہ پر بچوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق آئی اے ایس آفیسراے اےم مےر نے کہا کہ اس کے لئے کسی حد تک ہماری سرکار بھی ذمہ دارہے کےوں کہ سرکار نے اس کاقلع قمع کرنے کے لئے جوقانون بنا یاہے، اس کو اپنا ےا نہیں گےا جس کی وجہ سے اب اس کا ا ستعمال کرنے والے سرعام گاڑےوں میںاور عوامی مقامات و تعلیمی اداروں کے سامنے سگرےٹ کا استعمال کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد وادی میں 30سے 35فی صد ہے جن میں 8فی صدخواتین بھی تمباکو کا ا ستعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ18سال کی عمر سے کم بچوں کو تمباکو یا سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں دےنی چاہئے تب جا کر سےگرےٹ اور تمبا کا نوشی کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔ بچوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علاقہ بند نے کہا کہ سگرےٹ کا استعمال تب تک کم نہیں ہو سکتا ہے جب تک نہ ہم خود اپنے آپ کو اس سے پچائےں ۔ انہوں نے کہا اس وقت سماج میں ےہ بےماری سب سے زےادہ ہمارے بچوں میں لگی ہے کےونکہ ےہ بچے سےگرےٹ پےنا اپنے گھروالوں سے سےکھتے ہیں، اگر ان کے گھر میں سےگرےٹ کا ا ستعمال نہیں ہو گا تو ےہ بچے بھی اس کا استعمال کرنے سے گریز کرےں گے۔ انہوں نے کہا کہ سےکرےٹ میں 4سوکمیکل ہوتے ہیں جن کے استعمال کرنے والے کو سرطان ہو سکتا ہے۔

Friday, March 26, 2010

Bollywood diva Priyanka Chopra donning an Abaya, the traditional dress of Muslim women, appears in Srinagar for the shooting of her movie ‘Saat Khoon Maaf’ on Friday. Chopra earned a Filmfare best actress award and a national film award for best actress for her portrayal of a model in Madur Bhandarkar’s Bollywood movie Fashion in 2008 and established herself as one of the leading contemporary actresses in the Bollywood



Early Bloom Tulip Garden witnessed an early bloom this spring due to rising temperature


Early Bloom Tulip Garden witnessed an early bloom this spring due to rising temperature

دریائے جہلم کی بقاء پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں

پانی کا اہم وسیلہ تیزی کے ساتھ سکڑتا جارہا ہے،ماہرین کو خدشات لاحق
سیرنگر:ماحولیات کے لئے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ زبرون پہاڑی سلسلے میں واقع 'کولاہوئی گلیشر' گذشتہ40برس کے عرصے میں15سے18فیصدتک سکڑ گیاہے اوریہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔یہ گلیشربھارت اور پاکستان میں مقیم کروڑوں لوگوں کے لئے پانی کا ایک اہم وسیلہ ہے اوراسی سے دریائے جہلم میں پانی کی بیشتر مقدار جمع ہوتی ہے۔ذرائع کے مطابق دلی میں مقیم عالمی ماحولیاتی تنظیم ''انرجی اینڈ ریسورس انسٹی چیوٹ'' نے حال ہی میں واشنگٹن میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے سبب جنوبی کشمیر سے بہنے والے دریائے لدر کے پانی کا بنیادی وسیلہ ''کولاہوئی گلیشر'' انتہائی تیزی کے ساتھ پگھل رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں واقع اس گلیشر کے مسلسل سکڑنے سے مستقبل میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت اورپاکستان کے متعدد علاقوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ پانی کے حوالے سے اسی وسیلے پر منحصر ہیں۔یہ خطہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے گلیشروں کا مسکن ہے اور رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ماہرین ماحولیات ان گلیشروں کے بھی تیزی کے ساتھ سکڑنے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔اس سلسلے میں مذکورہ ماحولیاتی تنظیم کی طرف سے باضابطہ طور تحقیق عمل میں لائی گئی ہے جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ چار دہائیوں کے عرصے میں ''کولا ہوئی گلیشر''کا15سے18فیصد حصہ پگھل گیا ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے یہ عمل جاری ہے۔''انرجی اینڈ ریسورس انسٹی چیوٹ''کے ماہرین نے سال2009میں گلیشر کے بارے میں تازہ اعدادوشمار جمع کرنے کے لئے ایک سروے عمل میں لایا جس کے لئے مقامی لوگوں پر مشتمل ایک ٹیم کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ گلیشر ہر سال قریب10فٹ(تین میٹر) سکڑ جاتا ہے اور اس رفتار سے گذشتہ40برسوں میں اس کا حجم 15سے18فیصد کم ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ۔ماہرین کے مطابق 1976میںیہ گلیشر13.87مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا جو اب سکڑ کر 11.24مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق تنظیم کے ماہرین نے گلیشر کا دورہ کرنے کے بعد اسکی پیمائش عمل میں لائی جس کے دوران یخ میں جگہ جگہ سوراخ کرکے اعدادوشمار جمع کئے گئے۔مقامی لوگوں کی ٹیم کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ہر سال گرمیاں ختم ہوتے ہی اسی طرح سے گلیشر کی پیمائش عمل میں لائیںتاکہ آئندہ متواتر طور اس کے بارے میں اعدادوشمار جمع کرنے کاسلسلہ جاری رکھا جائے۔انرجی اینڈ ریسورس انسٹی چیوٹ'' سے وابستہ سرکردہ ماہر شریش تیال کے مطابق کولاہوئی گلیشر پر کی گئی سروے کے بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیںکیونکہ ابھی تک مغربی ہمالیائی گلیشروں کے پگھلنے سے متعلق قابل اعتبار اعدادوشمار دستیاب نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ گلیشر دریائے لدر کے لئے پانی کا بنیادی وسیلہ ہے اور گلیشر کے پگھلنے سے دریا میں جمع ہونے والی پانی کی مقدار کا پتہ لگانا بھی ضروری ہے جس کے لئے ایک 'مانیٹرنگ سٹیشن' کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو ہر روز لدر میں پانی کے بہائو کے بارے میں اعدادوشمار جمع کرتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی بین الاقوامی ماہرین ماحولیات نے خبر دار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے سبب جموں کشمیر میں واقع گلیشر دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں انتہائی تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں آنے والے وقت میں بھارت ،پاکستان،چین،بنگلہ دیش اور برما میں پانی کی شدید قلت کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں مستقبل میں ریاست میں بھی پانی کی زبردست کمی کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق اس سلسلے میں امریکہ،برطانیہ،آسٹریلیا اور نیپال سے تعلق رکھنے والے ماہرین ماحولیات کے علاوہ موسمیات اورماحولیات سے متعلق ریاست کے ماہرین نے ریاست میں واقع گلیشروں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اعدادوشمار بھی پیش کئے ہیں جن کے مطابق لداخ خطے کے کرگل ضلع میں72مربع کلومیٹررقبہ پر مشتمل'سُرو بسین 'نامی علاقہ میںکم و بیش300 گلیشر ہیں جن کا16فیصد حصہ پگھل گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کے گلیشرسالانہ0.8مربع کلومیٹر کی شرح سے پگھل رہے ہیں جس کی بنیادی وجوہات درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کا کم ہونا ہیں۔بین الاقوامی ماہرین ماحولیات نے کہا ہے کہ زبرون اور سُرو بسین میں واقع گلیشر وں کے دو سسٹم وادی میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے بنیادی وسائل ہیں۔کولا ہائی گلیشر دریائے جہلم کے لئے پانی کا بنیادی وسیلہ ہے جبکہ سُرو گلیشرسے نہ صرف دریائے سُرو بلکہ کرگل اور زنسکار وادیوںکو بھی پانی میسر ہوتا ہے۔